شعور کیا ہے؟

ویسے تو کائنات میں موجود ہر موضوع ہی توجہ طلب اور تجسس کا حامل ہے لیکن شعور ایک ایسا سائنسی،فلسفیانہ پہلو رکھنے والا موضوع ہے جس کا مطالعہ کرنے سے قبل اس کے بارے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا دقیق ہو گا۔
شعور پر فلسفیوں، سائنسدانوں ، مفکروں نے بہت بحث کی مختلف نظریات، افکار اور مفروضے اس کے بارے قائم کیے لیکن اس کے باوجود اس کی ختمی وسعت کو نہ پہنچ سکے۔ ابھی تک شعور کی حقیقت تک نا ہی فلسفہ پہنچ پایا ہے نہ سائنس بلکہ جستجو جاری ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی دماغ کی پیچیدگی ہے ۔
شعور کے بارے نظریات میں ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب کلاسیکی طبعیات کا خاتمہ ہوا اور کوانٹم مکینیکس نے اپنے قدم جمائے۔ ویسے تو کلاسیکی طبعیات سے قبل بھی شعور کو ماورائے فطرت تصور کیا جاتا تھالیکن کوانٹم مکینیکس کے آنے کے ساتھ ہی اس امر میں نئی تحقیق کا آغاز شروع ہوا ۔
اب جیسا کہ اہل علم اور طبعیات کو سمجھنے والے یہ جانتے ہیں کہ یہ سائنس کی ایک ایسی شاخ ہے جو توانائی اور مادہ کا آپس میں تعلق پیدا کرتی ہے۔ تمام نظر آنے والی کائنات کا وجود مادی ہے اور اس میں حرکت توانائیوں کی بدولت ہے۔ اب مادہ کی طبیعی عوامل کا مطالعہ طبعیات ہے۔
اسی طرح مادی اجسام میں حرکت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونی والی تبدیلی کو طبعیات میں آلاتیات کے زیر تحت سمجھا جاتا ہے۔ آلاتیات( میکینکس) کی بنیاد پر طبعیات دو شاخوں میں منقسم ہے۔
اب جیسے ہی جوہری اور زیر جوہری ذرات کی حرکت کا مسئلہ پیدا ہوا تو طبعیات میں کوانٹم مکینکس سے اس کو حل کرنے کی کوشش کی گئی کچھ ایسے مسائل جن کا حل اس سے بھی ممکن نہیں تھا اس کے لیے کوانٹم فیلڈ تھیوری پیش کی گئی۔

شعور کے بارے دو مکتب فکر
یہ کچھ تعارفی بحث اس لیے ضروری تھی تا کہ قارئین شعور کے بارے نئی تحقیق کو سمجھ سکیں جو کوانٹم مکینکس سے پیدا ہوئی۔
اب شعور یا کانشیسنیس کے بارے دو مکتب فکر پائے جاتے ہیں۔
• اول یہ مانتے ہیں کہ شعور کا کوانٹم مکینکس سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ جسمانی و دماغی یعنی مادی نامیاتی ارتقاء کی بدولت پیدا ہوا۔
• دوسروں کہ خیال میں ہمارا شعور کوانٹم لیول پر متاثر ہوتا ہے اور اس پر کوانٹم انٹنگلمنٹ اور سوپر پوزیشن جیسے سائنسی نظریات کا اثر ہوتا ہے۔
ان دونوں نظریات سے انسانی اختیارو ارادہ یاں فری وِل کے بارے نئی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پہلا گروہ یہ دعوہ کرتا ہے کہ کیونکہ انسان اختیارو ارادہ میں آزاد ہے اس لیے ممکن نہیں کہ کوانٹم سطح پر اس کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہو یا ایٹم جب مل کر جسم بناتے ہیں یا اعضاء , جیسے دماغ تو ان کو تاثر کوانٹم لیول سے مختلف ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ثانی گروہ یہ دعوہ کرتا ہے کہ ہماری زندگی کسی مافوق الفطرت ہستی سے جڑی ہے اور وہ ہمیں کنٹرول کرتا ہے کیونکہ کوانٹم لیول پر ہمارے زیری جوہری ذرات کائنات میں کسی اور اپنی جیسے زیری جوہری ذرات سے انٹنگل ہیں۔ اسی طرح پہلا گروہ
ان کے اس دعو ہ کا رد کرتا ہے۔ اور ان کا یہ خیال ہے کہ یہ مذہب والوں نے انسان کو کسی طرح پھندے میں ڈالنے کے لیے بنایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں