ریکوڈک منصوبے میں ملک کو اربوں کا چونا لگایا گیا،سنسنی خیز انکشاف

ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ کرپٹ عناصرکی وجہ سے ریکوڈک منصوبے سے اربوں روپے کےفائدے کی بجائے نقصان ہوا۔
ترجمان نیب کے مطابق 1993 میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بروکن ہلز پروپرائیٹر ی نامی آسٹریلیوی کمپنی کے مابین چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر کا ایک معاہدہ طے پایاجس میں حکومت بلوچستان بالخصوص بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی جانب سے آسٹریلوی کمپنی کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ قومی مفادات سے متصادم اس معاہدے کی شرائط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نا صرف غیر قانونی طریقے سے بلوچستان مائینگ کنسیشن رولز میں ترامیم کی گئیں بلکہ بار بار غیر قانونی طور پر ذیلی معاہدات کر کے ٹیتھیان کاپر کمپنی نامی نئی کمپنی کو متعارف کرکے اربوں روپے کے مزید مالی فائدے حاصل کیے گئے۔
نیب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ کمپنی کو فائدہ دینے کیلئے مائینگ رولزمیں ترامیم اورذیلی معاہدے کیے گئے، اراضی الاٹمنٹ اوردیگرامور میں محکمہ مال کے افسران کی بےقاعدگیوں کا انکشاف بھی ہوا ہے جب کہ ملزمان کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ مدمیں مالی فوائد لینے کا اعتراف کرلیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور گواہان کے بیانات سے چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں، ٹی سی سی کے کارندے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے میں ملوث پائے گئے ہیں اور کرپٹ عناصرکی وجہ سے ریکوڈک منصوبے سے اربوں روپے کےفائدے کی بجائے نقصان ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں