حکومت سے کسانوں کے مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم

ٹھوکر نیاز بیگ پر کسان اتحاد کے ارکان کااحتجاجی دھرنا میدان جنگ میں تبدیل ، پولیس نے واٹر کینن استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشرکر کے 162 افراد کو گرفتار کرلیا، حکومت پنجاب کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے پر کسان اتحاد نے دھرنا ختم کردیا
صوبائی وزیر توانائی کے دفتر میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کسان اتحاد کے وفد سے مذاکرات کے اجلاس کی صدارت کی، اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی محمد اختر ملک، کمشنر لاہور ذوالفقار گھمن، سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور اے سی رائیونڈ عدنان رشید بھی موجود تھے، کسان اتحاد بورڈ کی نمائندگی چودھری انورنے کی۔
صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سٹی42 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گرفتار کسان بھائیوں کو فوی رہا کیا جائے گا، کسان اتحاد نے جو مسائل سامنے رکھے ہیں اس کیلئے سیکرٹری ایگریکلچر کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
دوسری جانب ٹھوکرنیاز بیگ پر کسان اتحاد کے احتجاج کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنزاشفاق خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی جیبوں سے موبائل فون اور نقدی نکالنے کا الزام درست نہیں ہے۔
ایس پی صدر آپریشنزحفیظ الرحمن بگٹی کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر پاکستانی کا حق ہے مگر پولیس ہرگزیہ برداشت نہیں کرے گی کہ کوئی شہری راستہ بلاک کرکے قانون کی خلاف ورزی کرے، پولیس شیلنگ کے دوران مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے ایک شہری سمیت پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
کسان اتحاد کے دھرنے پر پولیس نے 4 نومبر کی رات آپریشن کیا،مظاہرین بجلی کے یکساں نرخ، کھاد،گنا کی قیمتوں کا تعین کرنے سمیت دیگر مطالبات کیلئے ملتان روڈ پر جمع ہوئے، تیس گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے دھرنے میں رات گئے پولیس کی بھاری نفری نے دھاوا بول دیا۔ پولیس کی جانب سے 200 سے زائد کسانوں کو گرفتار کرلیا گیا تاہم اس دوران کسانوں کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ بھی کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔
علاوہ ازیں وحدت روڈ پر کسانوں کا دھرنا ختم، کسان اتحاد نے مذاکرات کے بعد دھرنا مؤخر کر دیا، آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان حکومت کے ساتھ میٹنگ کے بعد کیا جائے گا، پولیس کی جانب سے وحدت روڈ کریم بلاک میں لگی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں، کسانوں نے رات لاہورمیں ہی قیام کیا۔ آج کسان بورڈ کی پانچ رکنی کمیٹی راجہ بشارت کی سربراہی میں قائم کردہ حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کرے گی۔
صدر کسان بورڈ چودھری شوکت چدھڑ کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات نہ سنے گئے تو کل سے ہی پنجاب بھر میں ضلعی سطح پر احتجاج شروع کریں گے اگر مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں آخری مارچ 10 نومبر کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف ہو گا۔
صدر پاکستان کسان بورڈ شوکت علی چدھڑ نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت گرفتاریوں کا شوق پورا کرے ہم اپنے مطالبات سے نہیں ہٹیں گے ،منڈیوں اور مارکیٹوں میں ہمیں لوٹا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں