حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کی اسلام آبا میں بڑی بیٹھک

حکومت کے خلاف مستقبل کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کی اسلام آبا میں بڑی بیٹھک لگا لی
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کے بیانیے کو حکومت کیخلاف تحریک کیلئے ناگزیر قرار دیدیا،،،اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں لیگی رہنما نے کہا،،، پی ڈی ایم کے پاس نوازشریف کا بیانیہ قبول کرنے کے علاوہ راستہ کیا ہے ؟؟؟ نوازشریف نے آخر کہا کیا ہے جو اتنا بوجھ ہے،، ،قانون توڑنے والوں کی بات کرکے کیا غلط کیا؟؟؟نوازشریف کا بیانیہ عوام نے قبول کرلیا ہے ،،،اب سیاسی جماعتیں پیچھے رہ گئیں عوام آگے نکل گئے ہیں ،،،گلگت بلتستان کے جلسے دیکھ لیں عوامی ردعمل کا پتہ چل جائے گا ۔۔
پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت اجلاس ہواجس میں راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، آفتاب شیرپاؤ، مولانا عبدالغفور حیدری، امیر حیدرہوتی، میاں افتخار حسین، شاہ اویس نورانی، ساجد میر، حافط عبدالکریم اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شریک ہوئے
اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ڈی ایم کے جلسوں اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور جاری ہے، اس کے علاوہ پی ڈی ایم کے یک موقف بیانیہ کی تشکیل پر مولانا فضل الرحمان سفارشات پیش کریں گے۔
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں فوجی قیادت کے نام لینے کے حوالے سے کیا بات ہوئی؟ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی کا نام لینا یا نہ لینا کوئی مسئلہ نہیں یہ مسلئہ صرف میڈیا نے بنایا ہوا ہے۔میں فوجی قیادت کا نام لینے کی حمایت کرتا ہوں۔ وزیراعظم اور صدر کا نام لیا جا سکتا ہے تو کسی ادارے کے بندے کا نام کیوں نہیں؟ ہمارا ایشو نام لینا نہیں، ملک ک نظام ٹھیک کرنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں